Breaking

Post Top Ad

Friday, February 22, 2019

غزل

دوستوں کے لیے ۔۔۔  ایک غزل ۔۔۔۔۔۔

اس خاک میں ملاؤ ، کوئی خاک مختلف
مجھ سا بنانے کے لیے ، ہو چاک مختلف

چرخ کہن ہٹاؤ ، کہ درکار ہیں مجھے
پرواز کے لیے ، کئی افلاک مختلف

کچھ اور ہی دکھایا مری عقل و فہم نے
باب ۔ دروں کھلا ،  ہوا ادراک مختلف

عادی ہیں گو ستم کے یہ اہل وطن مگر
اس بار اور ظلم ہیں ،  سفاک مختلف

معلوم تھا ہمیں کہ بلا کا ہے حیلہ جو
اب کے بہانہ لایا ہے ، چالاک ، مختلف

جنت کو چھوڑ کر میں زیاں کار کب رہی
پائی ہیں اس جہان میں ، املاک مختلف

خود کو جلا کے ، نور کا منبع بنی ہوں میں
اس روشنی میں ہیں، خس و خاشاک مختلف

نسرین سید

No comments:

Post a Comment

Post Top Ad

Pages